نئی دہلی، 30جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں مراٹھا برادری کو ریزرویشن دینے سے متعلق مہاراشٹر کے قانون کی آئینی قانونی حیثیت کو چیلنج دینے والی درخواستوں پر فوری سماعت کی درخواست پر غور کرنے پر پیر کو اتفاق کیا۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس دیپک گپتا اور جسٹس انروددھ بوس کی بنچ نے ایک وکیل کے اس بیان پر غور کیا کہ جن درخواستوں کو سماعت کے لیے درج ہونا تھا، وہ عدالت کے ایجنڈا میں نہیں ہے۔بنچ نے اس معاملے کو سماعت کے لیے جلد درج کرنے کی درخواست کر رہے وکیل سے کہاکہآپ میمو دیجئے۔ہم اس پر غور کریں گے۔عدات عظمی میں مراٹھا ریزرویشن کو صحیح ٹھہرانے کے بمبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف جے لکشمن راؤ پاٹل اور وکیل سجیت شکلا کی عرضی زیر التوا ہے۔ان درخواستوں میں بمبئی ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کیا گیا ہے جس میں ریزرویشن کی آئینی قانونی حیثیت کو برقرار رکھا گیا۔ہائی کورٹ نے اپنے 27 جون کے فیصلے میں کہا تھا کہ کل ریزرویشنوں پر سپریم کورٹ کی جانب سے لگائی گئی 50 فیصد کی تحدید کو رعایت کے حالات میں پاس کیا جا سکتا ہے۔یوتھ فار اکویلٹی کے نمائندے شکلا نے اپنی درخواست میں کہا کہ سماجی اور اقتصادی طور پر پسماندہ طبقہ (ایس ای بی سی) قانون، 2018 عدالت عظمی کی طرف سے اندرا ساہنی معاملے میں دیے گئے تاریخی فیصلے میں ریزرویشن پر لگائی گئی 50 فیصد کی تحدیدکی خلاف ورزی ہے۔اس فیصلے کو ’منڈل آرڈر‘بھی کہا جاتا ہے۔مہاراشٹر اسمبلی نے مراٹھا برادری کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں 16 فیصد ریزرویشن دینے سے متعلق ایک بل 30 نومبر، 2018 کو منظور کیا تھا۔اس سے پہلے عدالت عظمی مراٹھا برادری کو سرکاری ملازمتوں اور تعلیم میں ریزرویشن دینے سے متعلق قانون کی آئینی قانونی حیثیت پر غور کے لیے تیار ہو گیا تھا لیکن اس نے کچھ ترمیم کے ساتھ اس قانون کو صحیح ٹھہرانے کے ہائی کورٹ کے حکم پر روک لگانے سے انکار کر دیا تھا۔